کولکاتہ،30/ مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) بنگال میں لوک سبھا انتخابات میں ملی جیت سے حوصلہ افزا بھارتی جنتا پارٹی کے لیڈر اب ریاست میں 2021 سے پہلے ہی پارٹی کی حکومت بنتے دیکھ رہے ہیں۔اسی کو ذہن میں رکھتے ہوئے بی جے پی کے ایک سینئر رہنما نے کہا ہے کہ بنگال میں ممتا بنرجی کی حکومت 2021 تک اپنی میعاد پوری نہیں کر پائے گی۔بی جے پی لیڈر نے کہا کہ ان کی پارٹی نے ترنمول کانگریس کی طرز پر ہی ریاست میں کامیابی حاصل کی ہے۔بی جے پی کے قومی سکریٹری راہل سنہا کا کہنا ہے کہ بنگال میں اسمبلی انتخابات چھ ماہ یا ایک سال کے اندر ہو سکتے ہیں۔ملک بھر میں بہترین کارکردگی کے ساتھ ساتھ بی جے پی نے بنگال میں بھی شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔اس بار کے انتخابات میں اس نے ریاست کی 42 سیٹوں میں سے 18 پر جیت درج کی ہے، جبکہ 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں اسے صرف دو سیٹیں ملی تھیں۔وہیں گزشتہ انتخابات میں 34 نشستیں جیتنے والی ترنمول کانگریس اس بار 22 سیٹیں ہی جیت سکی ہے۔ریاست میں 2021 میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں، لیکن بی جے پی اس سے پہلے ہی اسمبلی انتخابات ہونے کا امکان جتا رہی ہے۔بی جے پی کی یہ امکان غلط بھی نہیں ہے۔ریاست میں گزشتہ انتخابات کے مقابلے اس کا ووٹ فیصد 17 سے بڑھ کر 40 تک پہنچ گیاہے۔ انہوں نے کہاکہ ٹی ایم سی میں بہت ناراضگی ہے۔وہیں منگل کو ترنمول کانگریس کے دو رکن اسمبلی اور 60 سے زائد کونسلر بی جے پی میں شامل ہو گئے۔بی جے پی کے سیکرٹری جنرل کیلاش وجیورگی نے کہا کہ جب ایک ریلی میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ ٹی ایم سی کے 40 رکن اسمبلی بی جے پی کے رابطے میں ہیں تو ممتا دیدی نے جواب دیا تھا کہ ان کے ساتھ تو ہمارا ایک گاؤں پنچایت کا لیڈربھی نہیں جائے گا۔اس پر وجیورگی نے کہاکہ جس طرح بنگال میں سات مراحل میں لوک سبھا انتخابات ہوئے ہیں اسی طرح ترنمول کانگریس کے چالیس ممبران اسمبلی کو بھی وہ سات مراحل میں پارٹی میں شامل کریں گے۔اور یہ پہلا مرحلہ ہے۔وہیں پارٹی کے ممبران اسمبلی اور کونسلر کے بی جے پی میں شامل ہونے پر رائے دیتے ہوئے ترنمول کانگریس نے کہا کہ پارٹی کے ایک معطل رکن اسمبلی اور صرف چھ کونسلر بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں۔باقی ممبر اسمبلی اور کونسلر کانگریس اور سی پی ایم کے تھے۔